کراچی میں رکن سندھ اسمبلی اسلم ابڑو کے بھائی اور بھتیجے کی ٹارگٹ کلنگ

صوبائی دارالحکومت کراچی کے پوش علاقے ڈفینس کے بلاک 7 میں ٹارگٹ کلنگ کے ایک واقعے میں رکن سندھ اسمبلی اسلم ابڑو کے بھائی اکرم ابڑو اور بھتیجے شہریار ابڑو سمیت تین افراد ہلاک جب کہ ایک زخمی ہوگیا۔

اسلم ابڑو 2018 میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ٹکٹ پر سندھ اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے لیکن 2021 میں سینیٹ انتخابات کے دوران پارٹی کی ہدایات کی خلاف ورزی کرنے پر انہیں پارٹی سے نکال دیا گیا تھا۔

کراچی پولیس کے سربراہ جاوید عالم اوڈھو نے میڈیا کو بتایا کہ رکن اسمبلی کے بھائی ایڈوکیٹ اکرم ابڑو اور ان کے بیٹے کو ٹارگٹ کرکے قتل کیا گیا۔

اسلم ابڑو نے واقعے سے متعلق بتایا کہ ان کے بھائی اور بھتیجے دیگر اہل خانہ کے ہمراہ دو گآڑیوں میں کراچی سے آبائی شہر جیکب آباد جا رہے تھے کہ گھر سے نکلتے ہی ان پر حملہ کیا گیا۔

انہوں نے واقعے کو ذاتی دشمن کا شاخسانہ قرار دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کی ذاتی دشمنی ہوتی تو اسلحہ بردار لوگ سب افراد کو قتل کردیتے۔

انہوں نے بھی واقعے کو ٹارگٹ کلنگ قرار دیتے ہوئے پولیس اور حکومت سے جلد ایکشن لینے کا مطالبہ کیا۔

واقعے کے حوالے سے ایس ایس پی ساؤتھ سید اسد رضا نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ تقریباً 11 بج کر 15 منٹ پر اکرم ابڑو 4 افراد کے ساتھ خیابان شمشیر ڈی ایچ اے میں واقع اپنی رہائش گاہ سے گاڑی میں سوار ہو کر جیکب آباد کے لیے روانہ ہوئے۔

سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ جب وہ کورنگی کاز وے کے قریب پہنچے تو تقریبا 11 بج کر 35 منٹ پر ان کی گاڑی پر نامعلوم حملہ آوروں نے گھات لگا کر فائرنگ کردی۔

انہوں نے بتایا کہ فائرنگ کے نتیجے میں 4 افراد شدید زخمی ہوگئے، زخمیوں کو فوری پر طبی امداد کے لیے جناح ہسپتال منتقل کیا گیا۔

اسد رضا نے بتایا کہ فائرنگ کے نتیجے میں 65 سالہ اکرم ابڑو اور 40 سالہ شہریار ابڑو اور 40 سالہ ارشاد پنہور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگئے۔

انہوں نے بتایا کہ واقعے میں 45 سالہ عبداللہ ابڑو زخمی ہوگئے ہیں۔